رُجُوع
یہ آیت ملاقاتوں میں ادب سکھاتی ہے۔
وَإِن قِيلَ لَكُمُ ٱرۡجِعُواْ فَٱرۡجِعُواْۖ هُوَ أَزۡكَىٰ لَكُمۡ
اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس لوٹ جاؤ تو واپس لوٹ جاؤ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ ہے۔
قرآن, An-Nur 24:28
آیت بتاتی ہے کہ کسی گھر میں جاتے وقت کیسے پیش آنا ہے۔ اگر کوئی جواب نہ دے یا جانے کو کہا جائے تو واپس لوٹ آؤ۔ یہ ناکامی نہیں بلکہ احترام اور پاکیزگی کی علامت ہے۔ زندگی میں جب ہمیں انکار ملے یا کوئی دروازہ بند ہو تو بھی یہی اصول ہے۔ واپس ہونا دوسروں کی حدود ماننا اور عاجزی سے عمل کرنا ہے۔ اللہ ہمارے اعمال دیکھتا اور ضبط کو پسند کرتا ہے۔
آج اگر کوئی تمہیں واپس جانے یا اصرار نہ کرنے کو کہے تو نرمی سے مان لو اور بحث کے بغیر لوٹ جاؤ۔
|