تَابَ
یہ آیت اللہ کی طرف لوٹنے والوں کے لیے بڑی خوشخبری سناتی ہے۔
إِلَّا مَن تَابَ وَءَامَنَ وَعَمِلَ عَمَلٗا صَٰلِحٗا فَأُوْلَـٰٓئِكَ يُبَدِّلُ ٱللَّهُ سَيِّـَٔاتِهِمۡ حَسَنَٰتٖۗ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمٗا
سوائے ان لوگوں کے جنہوں نے توبہ کی، ایمان لائے اور نیک عمل کیا، تو اللہ ان کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا، اور اللہ بخشنے والا، مہربان ہے۔
قرآن, Al-Furqaan 25:70
دوگنے عذاب کا ذکر کرنے کے بعد آیت امید کا دروازہ کھولتی ہے۔ اس میں تین شرطیں ہیں: توبہ، ایمان اور نیک عمل۔ ایسے لوگوں سے اللہ وعدہ کرتا ہے کہ ان کی برائیوں کو نیکیوں میں بدل دے گا۔ وہ بخشنے والا اور مہربان ہے۔ یہ وعدہ ہمیں کبھی مایوس نہ ہونے کی دعوت دیتا ہے۔ آج ہم کوئی سادہ نیکی، چاہے چھوٹی ہو، چن کر اخلاص سے کر سکتے ہیں۔ یہ اس وعدہ کی تبدیلی کی طرف عملی قدم ہے۔
آج مسکراہٹ یا مدد جیسی سادہ نیکی کرو اور اپنے دل میں سچی توبہ کرو۔
|