الطَّمَعُ فِي الْمَغْفِرَة
یہ آیت ہمیں اپنی خطاؤں پر اللہ کی مغفرت کی امید رکھنا سکھاتی ہے۔
وَٱلَّذِيٓ أَطۡمَعُ أَن يَغۡفِرَ لِي خَطِيٓـَٔتِي يَوۡمَ ٱلدِّينِ
اور اسی سے میں امید رکھتا ہوں کہ بدلے کے دن میری خطا بخش دے گا۔
قرآن, Ash-Shu'araa 26:82
اس حصے میں حضرت ابراہیم اللہ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ وہ یاد دلاتے ہیں کہ اللہ انہیں موت دے گا پھر زندہ کرے گا، اور قیامت کے دن وہی ہے جس سے وہ اپنی خطا کی مغفرت کی امید رکھتے ہیں۔ آیت قیامت پر ایمان اور مغفرت کی امید کو جوڑتی ہے۔ ہم بھی غلطیاں کرتے ہیں، لیکن اعتماد کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہو کر اس سے بخشش مانگ سکتے ہیں۔ یہ امید ہمیں مایوسی سے بچاتی اور نیکی جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے۔
آج کہو: «اے میرے رب، مجھے اپنی خطاؤں کی مغفرت کی امید ہے» اور پھر اخلاص سے کوئی نیکی کرو۔
|