كَرَاهَة
نبی لوط ناپسندیدہ رویے کو مضبوطی سے رد کرتے ہیں۔
قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُم مِّنَ ٱلۡقَالِينَ
اس نے کہا: میں تمہارے کام کو ناپسند کرنے والوں میں ہوں۔
قرآن, Ash-Shu'araa 26:168
اس آیت میں لوط اپنی قوم کو جواب دیتے ہیں جو انہیں نکالنے کی دھمکی دیتی ہے۔ وہ دباؤ کے آگے نہیں جھکتے بلکہ ان کے اعمال کو صاف رد کرتے ہیں۔ ان کی ناپسندیدگی دل میں ہے مگر وہ اسے کھل کر کہتے ہیں۔ یہ مضبوطی ضبط نفس ہے: اکثریت کے بہاؤ میں نہ بہنا۔ ہماری زندگی میں کبھی ایسے قول یا عمل دیکھنے کو ملتے ہیں جنہیں ہم برا سمجھتے ہیں۔ بغیر جارحیت کے سکون اور وضاحت سے اختلاف ظاہر کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لیے حوصلہ اور تحمل چاہیے۔
آج کوئی ناانصافی یا دل دکھانے والی بات دیکھو تو غصہ کیے بغیر ایک سادہ اور مضبوط جملے میں اپنا اختلاف ظاہر کرو۔
|