صِدْق
یہ آیت ہمیں اپنے قول کو عمل کے مطابق کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
يَقُولُونَ مَا لَا يَفۡعَلُونَ
وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں
قرآن, Ash-Shu'araa 26:226
اس حصے میں اللہ ان لوگوں کو بیان کرتا ہے جو وہ کہتے ہیں جو کرتے نہیں۔ پچھلی آیت انہیں ہر وادی میں بھٹکتے دکھاتی ہے اور یہ آیت ان کی خامی، قول و عمل کے فرق، کو واضح کرتی ہے۔ اگلی آیت ایمان، نیک عمل اور اللہ کے ذکر والوں کو مستثنیٰ کرتی ہے اور اخلاص کا راستہ دکھاتی ہے۔ ہم روزمرہ میں وعدہ کر کے پورا نہ کرنے یا عمل کے بغیر نصیحت کرنے میں آسانی سے مبتلا ہو سکتے ہیں۔ اخلاص (صدق) کا مطلب ہم آہنگ ہونا ہے: وہ بات نہ کہنا جس پر خود عمل نہیں کرتے۔
آج نصیحت یا وعدہ کرنے سے پہلے پوچھو کہ کیا تم خود اسے نبھا سکتے ہو۔ نہیں تو بات بدل دو یا خاموش رہو۔
|