أَخ
یہ واقعہ ہمیں اپنی حدود تسلیم کرنے اور حکمت و عاجزی سے کسی بھائی یا قریبی کی مدد لینے کا سبق دیتا ہے۔
وَأَخِي هَٰرُونُ هُوَ أَفۡصَحُ مِنِّي لِسَانٗا فَأَرۡسِلۡهُ مَعِيَ رِدۡءٗا يُصَدِّقُنِيٓۖ
اور میرا بھائی ہارون زبان کے اعتبار سے مجھ سے زیادہ فصیح ہے، پس اسے میرے ساتھ مددگار بنا کر بھیج کہ وہ میری تصدیق کرے۔
قرآن, Al-Qasas 28:34
موسیٰ ایک مشکل ذمہ داری کے سامنے تھے۔ انہوں نے اپنی حد مان کر اللہ سے درخواست کی کہ ان کے بھائی ہارون کو ساتھ کر دے۔ انہوں نے بھائی کی صلاحیت کم نہیں کی بلکہ اسے اپنی ذمہ داری کی مفید تکمیل بتایا۔ ہم بھی مشکل کاموں میں ایسے قریبی، بھائی یا بہن سے مدد لے سکتے ہیں جن کی صلاحیتیں ہماری صلاحیتوں کو مکمل کرتی ہوں۔ مدد مانگنا کمزوری نہیں بلکہ حکمت اور عاجزی ہے۔
آج ایک مشکل کام چنو اور اس کی قابلیت تسلیم کرتے ہوئے کسی قریبی سے مدد مانگو۔
|