صَبْر
یہ آیت سکھاتی ہے کہ صبر اور برائی کا جواب نیکی سے دینا دوہرے اجر تک پہنچاتا ہے۔
أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡتَوۡنَ أَجۡرَهُم مَّرَّتَيۡنِ بِمَا صَبَرُواْ وَيَدۡرَءُونَ بِٱلۡحَسَنَةِ ٱلسَّيِّئَةَ
یہی لوگ ہیں جنہیں ان کے صبر کی وجہ سے دوہرا اجر دیا جائے گا اور جو نیکی سے برائی کو دور کرتے ہیں۔
قرآن, Al-Qasas 28:54
آیت تین رویوں کو جمع کرتی ہے: صبر، برائی کا جواب نیکی سے دینا اور اللہ کے دیے میں سے خرچ کرنا۔ ان خوبیوں کے ساتھ دوہرے اجر کا ذکر ہے، کسی خاص شرط کے بغیر۔ روزمرہ میں مشکلات پر صبر اور دل دکھانے والی بات کا جواب نرم کلمے سے دے سکتے ہیں۔ یہ کوشش مانگتا ہے، مگر آیت بڑے اجر کا ذکر کر کے حوصلہ دیتی ہے۔
آج کوئی صورت حال تمہیں چڑھائے تو سانس لو اور نرمی کے لفظ یا خاموشی سے جواب دو۔
|