النَّشْأَةُ الْآخِرَةُ
یہ آیت ہمیں اللہ کی قدرت پہچاننے کے لیے فطرت پر غور کی دعوت دیتی ہے۔
قُلۡ سِيرُواْ فِي ٱلۡأَرۡضِ فَٱنظُرُواْ كَيۡفَ بَدَأَ ٱلۡخَلۡقَۚ ثُمَّ ٱللَّهُ يُنشِئُ ٱلنَّشۡأَةَ ٱلۡأٓخِرَةَۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيۡءٖ قَدِيرٞ
کہہ دو: «زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اس نے تخلیق کی ابتدا کیسے کی۔ پھر اللہ آخری پیدائش پیدا کرے گا۔ بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔»
قرآن, Al-Ankabut 29:20
اللہ نبی کو حکم دیتا ہے کہ لوگوں سے کہو زمین میں چل پھر کر دیکھیں کہ اس نے تخلیق کیسے شروع کی۔ جب ہم یہ دیکھیں گے تو سمجھیں گے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ اگلی آیت یاد دلاتی ہے کہ وہ عذاب اور رحمت دیتا اور ہم اس کی طرف لوٹائے جائیں گے۔ آج ہم اپنے اردگرد کی فطرت پر غور کر سکتے ہیں۔ پودے کو بڑھتے یا جانور کو پیدا ہوتے دیکھ کر اللہ کی قدرت نظر آتی ہے؛ اس سے قیامت کے وعدے پر اعتماد بڑھتا ہے۔
آج ایک منٹ فطرت کی کسی چیز، مثلاً پودے یا کیڑے، کو دیکھو اور دل میں کہو: «اللہ ہر چیز پر قادر ہے»۔
|