الْقُنُوط
یہ آیت آزمائش کے بعد بھی اللہ سے امید رکھنے کی دعوت دیتی ہے۔
وَإِذَآ أَذَقۡنَا ٱلنَّاسَ رَحۡمَةٗ فَرِحُواْ بِهَاۖ وَإِن تُصِبۡهُمۡ سَيِّئَةُۢ بِمَا قَدَّمَتۡ أَيۡدِيهِمۡ إِذَا هُمۡ يَقۡنَطُونَ
جب ہم لوگوں کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر خوش ہوتے ہیں، اور اگر ان کے اپنے ہاتھوں کے آگے بھیجے ہوئے اعمال کے سبب کوئی برائی پہنچے تو فوراً ناامید ہو جاتے ہیں۔
قرآن, Ar-Rum 30:36
آیت دو انسانی ردِعمل بیان کرتی ہے: نعمت پر خوشی اور مشکل پر مایوسی۔ یہ خوشی کو برا نہیں کہتی مگر بتاتی ہے کہ مایوسی راستہ نہیں۔ اگلی آیت یاد دلاتی ہے کہ اللہ جس کے لیے چاہے رزق کشادہ یا تنگ کرتا ہے؛ حالات بدلتے رہتے ہیں۔ زندگی میں مشکل وقت آ سکتا ہے۔ آیت ہمیں مایوسی کے گھیرے میں نہ آنے کی ترغیب دیتی ہے، کیونکہ اللہ کی رحمت ہمیشہ ممکن ہے۔
آج اگر مشکل میں ہو تو یہ آیت یاد کرو اور اللہ کی رحمت کے لیے مختصر دعا کرو۔
|