سُجُود
یہ آیت اللہ کی نشانیوں کے سامنے سچے مومنوں کا رویہ بیان کرتی ہے۔
إِنَّمَا يُؤۡمِنُ بِـَٔايَٰتِنَا ٱلَّذِينَ إِذَا ذُكِّرُواْ بِهَا خَرُّواْۤ سُجَّدٗاۤ وَسَبَّحُواْ بِحَمۡدِ رَبِّهِمۡ وَهُمۡ لَا يَسۡتَكۡبِرُونَ۩
ہماری آیات پر وہی ایمان لاتے ہیں کہ جب انہیں ان کے ذریعے نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں، اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور تکبر نہیں کرتے۔
قرآن, As-Sajda 32:15
یہ آیت حقیقی ایمان کو تین رویوں سے جوڑتی ہے: سجدہ کرنا، اللہ کی حمد کے ساتھ تسبیح کہنا اور تکبر سے انکار۔ یہ نہیں کہتی کہ یہ اعمال ایمان پیدا کرتے ہیں بلکہ یہ مخلص ایمان کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ہم روزمرہ زندگی میں آیت یا بھلائی کی بات سنتے ہی رک کر اللہ کو یاد اور اس کا شکر ادا کرکے یہ عاجزی پیدا کر سکتے ہیں۔
آج کوئی آیت یا نصیحت سنو تو ایک لمحہ رک کر «سبحان اللہ» کہو اور دل میں اللہ کا شکر ادا کرو۔
|