أَقْسَط
یہ آیت گود لیے ہوئے بچوں کے لیے انصاف کا ایک سادہ اصول سکھاتی ہے۔
ٱدۡعُوهُمۡ لِأٓبَآئِهِمۡ هُوَ أَقۡسَطُ عِندَ ٱللَّهِ
انہیں ان کے باپوں کے نام سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔
قرآن, Al-Ahzab 33:5
آیت کہتی ہے کہ گود لیے ہوئے بچوں کو ان کے حیاتیاتی والد کے نام سے پکارا جائے۔ اسے اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف قرار دیا گیا ہے۔ پچھلی آیت یاد دلاتی ہے کہ اللہ نے گود لیے ہوئے کو حقیقی بیٹا نہیں بنایا، اور اگلی خونی رشتوں کی خاص اہمیت کی تصدیق کرتی ہے۔ یہ اصول بچے کی شناخت محفوظ اور خاندانی رشتے واضح کرتا ہے۔ الجھن سے بچاتا اور حقیقت کا احترام کرتا ہے۔ ہم ہر شخص کی حقیقی شناخت اور اس کی جڑوں کو مٹائے بغیر قدر کر کے اس پر عمل کر سکتے ہیں۔
آج اگر تم کسی گود لیے ہوئے بچے کو جانتے ہو تو اس کا اصل خاندانی نام استعمال کرو یا اس کے حقیقی رشتوں کا احترام سے ذکر کرو۔
|