صِدْق
یہ آیت ایسے مؤمنوں کو بیان کرتی ہے جن کا اللہ کے ساتھ اخلاص برقرار رہا۔
مِّنَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ رِجَالٞ صَدَقُواْ مَا عَٰهَدُواْ ٱللَّهَ عَلَيۡهِۖ فَمِنۡهُم مَّن قَضَىٰ نَحۡبَهُۥ وَمِنۡهُم مَّن يَنتَظِرُۖ وَمَا بَدَّلُواْ تَبۡدِيلٗا
مؤمنوں میں ایسے مرد ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچ کر دکھایا؛ ان میں کچھ اپنی نذر پوری کر چکے اور کچھ منتظر ہیں، انہوں نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔
قرآن, Al-Ahzab 33:23
آیت دو رویے جمع کرتی ہے: کچھ مؤمنوں نے آخر تک اپنا عہد نبھایا اور کچھ ابھی انتظار میں ہیں۔ سب کی ایک صفت ہے: انہوں نے اپنا وعدہ نہیں بدلا۔ ان کا اخلاص نہ وقت پر منحصر ہے نہ حالات پر۔ ہم زندگی میں نماز یا روزے جیسے اللہ سے عہد کرتے ہیں۔ کبھی جوش کم ہو جاتا ہے۔ یہ آیت ہمیں مشکل میں بھی اپنا رویہ بدلے بغیر ثابت قدم رہنے کی دعوت دیتی ہے۔
آج اللہ کے ساتھ صبح کی دعا جیسا ایک سادہ عہد چنو اور اسے بغیر بدلے نبھاؤ۔
|