قَوْلًا مَّعْرُوفًا
یہ آیت معاملات میں مناسب اور بااحترام الفاظ اختیار کرنے کی دعوت دیتی ہے۔
وَقُلۡنَ قَوۡلٗا مَّعۡرُوفٗا
اور معروف بات کہو۔
قرآن, Al-Ahzab 33:32
اللہ نبی کی ازواج کو معروف بات کہنے کی ہدایت دیتا اور ایسی نرمی سے روکتا ہے جس سے بیمار دل والا شخص طمع کر سکتا ہے۔ الفاظ دلوں پر اثر ڈالتے ہیں اور ادب تعلقات کو غلط فہمی سے بچاتا ہے۔ ہماری زندگی میں معروف بات کا مطلب ہے احترام، وضاحت اور اعتدال، اور ایسے اشاروں یا جملوں سے بچنا جو نامناسب راستہ کھول دیں۔ اچھی گفتگو عبادت اور ذمہ داری ہے۔
آج بات کرنے سے پہلے خود سے پوچھو: کیا میرے الفاظ دلوں کی حفاظت اور احترام کی پاسداری کرتے ہیں؟
|