إِيذَاء
یہ آیت ہمیں مومنوں کو بلا وجہ تکلیف پہنچانے سے خبردار کرتی ہے۔
وَٱلَّذِينَ يُؤۡذُونَ ٱلۡمُؤۡمِنِينَ وَٱلۡمُؤۡمِنَٰتِ بِغَيۡرِ مَا ٱكۡتَسَبُواْ فَقَدِ ٱحۡتَمَلُواْ بُهۡتَٰنٗا وَإِثۡمٗا مُّبِينٗا
اور جو لوگ مومن مردوں اور مومن عورتوں کو بغیر کسی جرم کے ایذا دیتے ہیں تو انہوں نے بہتان اور کھلے گناہ کا بوجھ اٹھایا۔
قرآن, Al-Ahzab 33:58
آیت مومنوں کو تکلیف دینے کو بہتان اور واضح گناہ سے جوڑتی ہے۔ یہاں بدلے کی نہیں بلکہ ناحق اذیت کی بات ہے۔ قریبی سیاق اللہ اور اس کے رسول کو ایذا دینے والوں کا ذکر کر کے مومنوں کو ہر نقصان کی سنگینی واضح کرتا ہے۔ آج کوئی دل دکھانے والی بات، مذاق یا بے بنیاد الزام اس میں شامل ہو سکتا ہے۔ بولنے سے پہلے خود سے پوچھو کہ تمہاری بات مفید اور منصفانہ ہے یا نہیں۔
آج کسی پر تبصرہ کرنے سے پہلے سوچو کہ بات سچی اور مفید ہے یا نہیں؛ ورنہ خاموش رہو۔
|