قَوْلٌ سَدِيدٌ
یہ آیت تقویٰ کو سیدھی بات کے ساتھ جوڑنے کی دعوت دیتی ہے۔
وَقُولُواْ قَوۡلٗا سَدِيدٗا
اور سیدھی بات کہا کرو۔
قرآن, Al-Ahzab 33:70
اللہ اس آیت میں مومنوں سے مخاطب ہے۔ انہیں تقویٰ اور درست، سچی بات کہنے کا حکم دیتا ہے۔ سدید ایسی بات ہے جو بغیر فریب اور ٹیڑھ کے مقصد تک پہنچے۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ سیدھی بات اعمال کی اصلاح اور گناہوں کی بخشش کا سبب بنتی ہے۔ ہماری باتیں روزانہ تعلقات بناتی ہیں۔ نرمی سے سچ کہنا، وعدے نبھانا اور دل دکھانے والی بات سے بچنا اس راست بازی کو اپنانے کے عملی طریقے ہیں۔ ہر گفتگو ایمان مضبوط کرنے کا موقع ہے۔
آج بولنے سے پہلے خود سے پوچھو: کیا میری بات سیدھی اور مفید ہے؟ ایک گفتگو چنو اور ہر لفظ سچا و مہربان رکھو۔
|