بَلَاغ
یہ آیت رسولوں کی بنیادی ذمہ داری یاد دلاتی ہے: پیغام واضح پہنچانا۔
وَمَا عَلَيۡنَآ إِلَّا ٱلۡبَلَٰغُ ٱلۡمُبِينُ
اور ہمارے ذمے تو صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے۔
قرآن, Yaseen 36:17
رسول انکار کرنے والی قوم کو جواب دیتے ہیں کہ ان کی ذمہ داری صرف پیغام صاف پہنچانا ہے، دلوں کو ماننے پر مجبور کرنا نہیں۔ یہ بات ہمیں اپنی گفتگو میں بھی یہی روش اپنانے کی دعوت دیتی ہے۔ خلوص سے نصیحت کرو مگر دوسرے کے ردعمل کا بوجھ نہ لو؛ تمہارا کام وضاحت ہے، نتیجہ قابو کرنا نہیں۔
آج کوئی مفید نصیحت صاف اور نرمی سے پہنچاؤ، پھر اسے قبول یا رد کرنے کی آزادی سامنے والے کو دو۔
|