ظُلْم النَّفْس
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص اپنے انتخاب کا ذمہ دار ہے۔
وَمِن ذُرِّيَّتِهِمَا مُحۡسِنٞ وَظَالِمٞ لِّنَفۡسِهِۦ مُبِينٞ
اور ان دونوں کی اولاد میں کچھ نیکوکار ہیں اور کچھ اپنے نفس پر کھلا ظلم کرنے والے۔
قرآن, As-Saaffaat 37:113
اللہ نے ابراہیم اور اسحاق کو برکت دینے کے بعد ان کی اولاد کے دو گروہ بیان کیے: نیکوکار اور اپنے اوپر ظلم کرنے والے۔ نیکی وراثت میں نہیں ملتی؛ ہر شخص اپنی مرضی سے عمل کرتا ہے۔ ہم پوچھ سکتے ہیں: ہم کس گروہ میں ہونا چاہتے ہیں؟ ہمارے اعمال روز جواب بناتے ہیں۔ اپنے آپ پر ظلم نقصان دہ چیز چننا ہے، جبکہ نیکی ہمیں بلند کرتی ہے۔
آج اپنے لیے کوئی نیکی کرو، مثلاً سچی بات کہنا یا مفید وقفہ لینا۔
|