خسران
یہ آیت ہمیں سوچنے کی دعوت دیتی ہے کہ اصل اہمیت کس چیز کی ہے۔
قُلۡ إِنَّ ٱلۡخَٰسِرِينَ ٱلَّذِينَ خَسِرُوٓاْ أَنفُسَهُمۡ وَأَهۡلِيهِمۡ يَوۡمَ ٱلۡقِيَٰمَةِۗ أَلَا ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡخُسۡرَانُ ٱلۡمُبِينُ
کہہ دو: حقیقی خسارے والے وہ ہیں جنہوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو خسارے میں ڈالا، سن لو یہی کھلا خسارہ ہے۔
قرآن, Az-Zumar 39:15
اللہ خسارے والوں کو ان لوگوں کے طور پر بیان کرتا ہے جنہوں نے قیامت میں خود کو اور اپنے اہل کو کھو دیا۔ ہماری ذمہ داری صرف اپنی ذات تک نہیں بلکہ گھر والوں تک بھی ہے۔ آج سوچو کہ ہم اپنے خاندان کو خیر کی طرف کیسے لے جا رہے ہیں۔ مختصر یاد دہانی، نماز کی ترغیب یا مشترکہ مطالعہ عملی قدم ہیں۔
آج خاندان کے کسی فرد کے ساتھ آیت یا مفید بات بالمشافہ یا پیغام سے بانٹو۔
|