صِدْق
یہ آیت حق کو تقویٰ کے ساتھ جوڑتی ہے۔
وَٱلَّذِي جَآءَ بِٱلصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡمُتَّقُونَ
اور جو شخص سچ لے کر آیا اور جس نے اسے سچ مانا، یہی لوگ متقی ہیں۔
قرآن, Az-Zumar 39:33
آیت دو لوگوں کو جمع کرتی ہے: حق لانے والا اور اسے سچ ماننے والا۔ دونوں کو متقی کہا گیا ہے۔ یہاں حق سے مراد پیغمبر کا پیغام ہے، جیسا کہ پچھلی آیت حق کے آنے پر اسے جھٹلانے کا ذکر کرتی ہے۔ ہم اپنی زندگی میں حق کو قبول کرنے اور اسے پہچاننے والوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔ سچی بات کو، چاہے وہ کسی سادہ شخص سے آئے، قبول کرنا تقویٰ کی علامت ہے۔
آج ملنے والی کسی سچی بات پر غور کرو اور اسے پہچاننے کی توفیق پر اللہ کا شکر ادا کرو۔
|