هُدًى
یہ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہر شخص اپنی ہدایت کا خود ذمہ دار ہے۔
فَمَنِ ٱهۡتَدَىٰ فَلِنَفۡسِهِۦۖ وَمَن ضَلَّ فَإِنَّمَا يَضِلُّ عَلَيۡهَا
جو ہدایت پائے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے پاتا ہے، اور جو گمراہ ہو وہ اپنے ہی نقصان کے لیے گمراہ ہوتا ہے۔
قرآن, Az-Zumar 39:41
اللہ بتاتا ہے کہ اس نے لوگوں کے لیے حق کے ساتھ کتاب نازل کی۔ پھر واضح کرتا ہے کہ جو ہدایت پائے وہ اپنے ہی فائدے کے لیے پاتا ہے، اور جو گمراہ ہو وہ اپنا ہی نقصان کرتا ہے۔ نبی ان کے اعمال کے ذمہ دار نہیں۔ ہم سیکھتے ہیں کہ ہدایت ذاتی معاملہ ہے۔ ہم دوسروں کو ہدایت پر مجبور نہیں کر سکتے، مگر اپنے اعمال کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ نیکی کی ہر کوشش ہماری روح کے لیے فائدہ ہے۔
آج اپنے لیے ایک نیک عمل سوچو، مثلاً آیت پڑھنا یا نفل نماز، اور اسے اللہ کے لیے اخلاص سے انجام دو۔
|