نِعْمَة
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہر فضل اللہ کی طرف سے آتا ہے۔
ثُمَّ إِذَا خَوَّلۡنَٰهُ نِعۡمَةٗ مِّنَّا قَالَ إِنَّمَآ أُوتِيتُهُۥ عَلَىٰ عِلۡمِۭۚ
پھر جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دیتے ہیں تو کہتا ہے: یہ مجھے میرے علم کے سبب ملی ہے۔
قرآن, Az-Zumar 39:49
اللہ انسان کا حال بیان کرتا ہے جب اسے مصیبت پہنچتی ہے: وہ اللہ کو پکارتا ہے۔ لیکن جب اللہ اسے نعمت دیتا ہے تو اسے اپنے علم یا قابلیت کا نتیجہ کہتا ہے۔ حالاں کہ یہ نعمت آزمائش ہے: کیا وہ اللہ کا شکر کرے گا؟ ہمیں صحت، علم اور مال جیسی بہت سی نعمتیں ملتی ہیں۔ کبھی انہیں صرف اپنی کوشش کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ آیت یاد دلاتی ہے کہ ہر فضل اللہ کی طرف سے ہے؛ اس کا شعور ہمیں عاجز اور شکر گزار رکھتا ہے۔
آج ملنے والی کسی نعمت کو پہچانو اور کہو: «الحمدللہ، اس نعمت پر تیرا شکر ہے یا اللہ»۔
|