تَقْوَى
یہ آیت دکھاتی ہے کہ ایک سادہ عمل سچی تقویٰ کو کیسے ظاہر کرتا ہے۔
إِنَّ ٱلَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصۡوَٰتَهُمۡ عِندَ رَسُولِ ٱللَّهِ أُوْلَـٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱمۡتَحَنَ ٱللَّهُ قُلُوبَهُمۡ لِلتَّقۡوَىٰۚ
جو لوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں پست رکھتے ہیں یہی وہ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے پرکھا ہے۔
قرآن, Al-Hujuraat 49:3
آیت رسول اللہ کے سامنے آواز پست رکھنے کو آزمودہ تقویٰ سے جوڑتی ہے۔ یہ محض ادب نہیں بلکہ دل سے نکلنے والی احترام کی علامت ہے۔ اللہ نے ان دلوں کو آزمایا اور تقویٰ کے لائق پایا۔ ہم اپنے بولنے کے انداز پر توجہ دے کر، خاص طور پر احترام کے مستحق لوگوں کے ساتھ، اس رویے کی پیروی کر سکتے ہیں۔ آج نبی ہمارے درمیان نہ ہوں تب بھی نرم اور متوازن الفاظ چنیں۔
آج بولنے سے پہلے ایک لمحہ رک کر آواز پست کرو اور احترام والے الفاظ چنو۔
|