سَلَام
ابراہیم ان مہمانوں کو سلام کا جواب دیتے ہیں جنہیں وہ نہیں جانتے۔
قَالَ سَلَٰمٞ قَوۡمٞ مُّنكَرُونَ
اس نے کہا: سلام! تم تو انجان لوگ ہو۔
قرآن, Adh-Dhaariyat 51:25
اس آیت میں مہمان ابراہیم کے پاس آ کر سلام کہتے ہیں۔ وہ بھی اسی سلام کا جواب دیتے اور انہیں انجان لوگ کہتے ہیں۔ سلام کا لفظ دو بار آتا ہے: یہ ایسے لوگوں کے درمیان بھی امن کا تبادلہ ہے جو ایک دوسرے کو نہیں جانتے۔ آیت ہمیں بلا شرط سلام کا جواب دینے کی دعوت دیتی ہے۔ جن سے ملیں، خواہ جانتے نہ ہوں، انہیں سلام کر سکتے اور اسی طرح جواب دے سکتے ہیں۔
آج کسی انجان شخص کو سلام کہو اور اس کے سلام کا سلامتی سے جواب دو۔
|